بنگلورو۔14؍ اگست(ایس او نیوز) بی جے پی کے قومی صدر امیت شا جو دورۂ کرناٹک پر اس توقع سے آئے تھے کہ لنگایت طبقے کو الگ مذہب کا درجہ دینے کیلئے اٹھنے والی تحریک کے پیش نظر وکلیگا فرقہ کے ساتھ بی جے پی کو جوڑ سکیں، لیکن ان کی یہ تدبیر کل اس وقت الٹی پڑ گئی جب ان پر وکلیگا فرقہ کے سب سے بڑے مٹھ کے سربراہ نرملا نند سوامی کی توہین کا الزام لگ گیا۔
کل امیت شا نے آدی چن چنگری مٹھ میں ایک تقریب میں شرکت کی ، اس سے قبل جب انہوں نے مٹھ کے اندر سوامی جی سے ملاقات کی تو وہاں سوامی کا احترام کرنے کی بجائے ٹانگ پر ٹانگ ڈال کر بیٹھ گئے۔ امیت شا کا پیر سوامی کی طرف اشارہ کررہا تھا ۔ سوشیل میڈیا میں جیسے ہی یہ تصویر آئی وکلیگا فرقہ امیت شا کی اس حرکت پر چراغ پا ہوگیا۔
حال ہی میں وزیر توانائی ڈی کے شیوکمار کے ٹھکانوں پر محکمۂ انکم ٹیکس کے چھاپوں کی وجہ سے وکلیگا فرقے کے ووٹ بی جے پی کو نہ ملنے کے خوف سے پہلے ہی پریشان بی جے پی کے وکلیگا لیڈروں کے زخموں پر امیت شا نے اپنی حرکت سے نمک پاشی کا کام کردیا۔
نرملا نند سوامی جو وکلیگا فرقہ کے بڑے رہنما آدی چن چنگری مٹھ کے سربراہ راگھویندرا سوامی کے جانشین ہیں۔ ان کی امیت شا کی طرف سے اس طرح توہین کو سیاسی حلقوں میں بی جے پی کیلئے بہت بڑے خسارہ کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ لنگایت فرقہ کو الگ مذہب کا درجہ دینے کے مطالبے پر وزیر اعلیٰ سدرامیا کے مثبت موقف کی وجہ سے بی جے پی کوخوف ہے کہ اس بار 80 فیصد تک لنگایت طبقہ کانگریس سے جڑ سکتا ہے۔ ایسے میں بی جے پی نے جنتادل (ایس) کے ووٹ بینک کو قمع کرتے ہوئے وکلیگا فرقہ کو اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کی تھی، اسی مقصد کے تحت آدی چن چنگری مٹھ میں امیت شا کے ہاتھوں ایک کتاب کے اجراء کا اہتمام بھی کروایا گیا، لیکن ان تمام کے درمیان سوامی جی کی توہین کرکے امیت شانے اپنی ہی پارٹی کی طرف سے سیلف گول کردیا۔